میں قابلِ تعریف شاید نہ ہوں، مگر جس کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں، پھر آخر تک کھڑا رہتا ہوں۔
میں قابلِ تعریف شاید نہ ہوں، مگر جس کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں، پھر آخر تک کھڑا رہتا ہوں۔
میں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں سب سے بہتر ہوں،
مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میں عام بھی نہیں۔ میں بے حساب نہیں، بس اتنا لاجواب ہوں کہ لوگ مجھے بھول نہیں پاتے۔
میری شخصیت شور والی نہیں، مگر اثر چھوڑنے والی ہے
۔ میں خود کو بڑھا چڑھا کر نہیں دکھاتا، کیونکہ جو سچ ہو، اسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تعریفیں میں نے کبھی مانگی نہیں، کیونکہ وہ اکثر بدلتی رہتی ہیں۔ مگر وفاداری… وہ میرے اندر کی وہ چیز ہے جو نہ کبھی خریدی جا سکتی ہے، نہ بدلی جا سکتی ہے۔
میں قابلِ تعریف شاید نہ ہوں، مگر جس کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں، پھر آخر تک کھڑا رہتا ہوں۔
ہوش کھوتے ہوئے کوئی نہ تھا
ساتھ ہوتے ہوئے کوئی نہ تھا
میرے ہوتے ہوئے ہزاروں تھے
تیرے ہوتے ہوئے کوئی نہ تھا
ساتھ ویسے ہجومِ عام رہا
بوجھ ڈھوتے ہوئے کوئی نہ تھا
اس کے مرنے پہ رو رہے ہیں سبھی
جس کے روتے ہوئے کوئی نہ تھا
شاملِ قتل تھا جہاں سارا
داغ دھوتے ہوئے کوئی نہ تھا
نظرِ آب ہوگئی کشتی
پر ڈبوتے ہوئے کوئی نہ تھا
کون تھا ساتھ رنج میں لارین
زخم ڈھوتے ہوئے کوئی نہ تھا
لاریؔن جعفری
سمجھ میں آتی ہے
لا شعور کی نہیں
میں آپ سے سچ کہوں
میں لا شعور کی بے بسی ہوں
اس لیے میرا جیون آپ کو
عجیب لگتا ہے
میں دنیا میں نہیں ہوں
ایک حیرت کدے میں ہوں
اور تم صرف دنیا دار ہو
تم اجسام کو اپنی آنکھ کے
منافعے سے دیکھتے ہو
اور میں گھاٹے کا سودا
اس لیے قبول کر لیتا ہوں
کیونکہ مجھے خبر ہے
"ولعصر ان الانسان لفی خسر "
اظہر کلیانی
Welcome to WordPress. This is your first post. Edit or delete it, then start writing!