میں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں سب سے بہتر ہوں،

مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میں عام بھی نہیں۔ میں بے حساب نہیں، بس اتنا لاجواب ہوں کہ لوگ مجھے بھول نہیں پاتے۔

میری شخصیت شور والی نہیں، مگر اثر چھوڑنے والی ہے

۔ میں خود کو بڑھا چڑھا کر نہیں دکھاتا، کیونکہ جو سچ ہو، اسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تعریفیں میں نے کبھی مانگی نہیں، کیونکہ وہ اکثر بدلتی رہتی ہیں۔ مگر وفاداری… وہ میرے اندر کی وہ چیز ہے جو نہ کبھی خریدی جا سکتی ہے، نہ بدلی جا سکتی ہے۔

میں قابلِ تعریف شاید نہ ہوں، مگر جس کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں، پھر آخر تک کھڑا رہتا ہوں۔

لاریؔن جعفری

January 30, 2026

ہوش کھوتے ہوئے کوئی نہ تھا

ساتھ ہوتے ہوئے کوئی نہ تھا

میرے ہوتے ہوئے ہزاروں تھے

تیرے ہوتے ہوئے کوئی نہ تھا

ساتھ ویسے ہجومِ عام رہا

بوجھ ڈھوتے ہوئے کوئی نہ تھا

اس کے مرنے پہ رو رہے ہیں سبھی

جس کے روتے ہوئے کوئی نہ تھا

شاملِ قتل تھا جہاں سارا

داغ دھوتے ہوئے کوئی نہ تھا

نظرِ آب ہوگئی کشتی

پر ڈبوتے ہوئے کوئی نہ تھا

کون تھا ساتھ رنج میں لارین

زخم ڈھوتے ہوئے کوئی نہ تھا

لاریؔن جعفری

اظہر کلیانی

January 30, 2026

سمجھ میں آتی ہے

لا شعور کی نہیں

میں آپ سے سچ کہوں

میں لا شعور کی بے بسی ہوں

اس لیے میرا جیون آپ کو

عجیب لگتا ہے

میں دنیا میں نہیں ہوں

ایک حیرت کدے میں ہوں

اور تم صرف دنیا دار ہو

تم اجسام کو اپنی آنکھ کے

منافعے سے دیکھتے ہو

اور میں گھاٹے کا سودا

اس لیے قبول کر لیتا ہوں

کیونکہ مجھے خبر ہے

"ولعصر ان الانسان لفی خسر "

اظہر کلیانی

Hello world!

January 30, 2026

Welcome to WordPress. This is your first post. Edit or delete it, then start writing!

اپنی پوئٹری بھی پوسٹ کریں
Post Poetry