ہوش کھوتے ہوئے کوئی نہ تھا
ساتھ ہوتے ہوئے کوئی نہ تھا
میرے ہوتے ہوئے ہزاروں تھے
تیرے ہوتے ہوئے کوئی نہ تھا
ساتھ ویسے ہجومِ عام رہا
بوجھ ڈھوتے ہوئے کوئی نہ تھا
اس کے مرنے پہ رو رہے ہیں سبھی
جس کے روتے ہوئے کوئی نہ تھا
شاملِ قتل تھا جہاں سارا
داغ دھوتے ہوئے کوئی نہ تھا
نظرِ آب ہوگئی کشتی
پر ڈبوتے ہوئے کوئی نہ تھا
کون تھا ساتھ رنج میں لارین
زخم ڈھوتے ہوئے کوئی نہ تھا
لاریؔن جعفری
Leave a Reply