لاریؔن جعفری

January 30, 2026

ہوش کھوتے ہوئے کوئی نہ تھا

ساتھ ہوتے ہوئے کوئی نہ تھا

میرے ہوتے ہوئے ہزاروں تھے

تیرے ہوتے ہوئے کوئی نہ تھا

ساتھ ویسے ہجومِ عام رہا

بوجھ ڈھوتے ہوئے کوئی نہ تھا

اس کے مرنے پہ رو رہے ہیں سبھی

جس کے روتے ہوئے کوئی نہ تھا

شاملِ قتل تھا جہاں سارا

داغ دھوتے ہوئے کوئی نہ تھا

نظرِ آب ہوگئی کشتی

پر ڈبوتے ہوئے کوئی نہ تھا

کون تھا ساتھ رنج میں لارین

زخم ڈھوتے ہوئے کوئی نہ تھا

لاریؔن جعفری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *